تازہ ترین

قُرآن پاک کی تلاوت

مشعلِ راہ

حمد، نعت اور نشید

From our Blog

Showing posts with label اُردو ادب. Show all posts
Showing posts with label اُردو ادب. Show all posts

مرزا اسد اللہ خان غالب اُردو زبان کے بادشاہِ عظیم

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
مرزا غالب(1797-1869)اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا


  غالب کی شاعری
غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، ”غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔ اردو روزمرہ اور محاورے کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔“
عبدالرحمن بجنوری لکھتے ہیں کہ، ”ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ”وید مقدس“ اور ”دیوان غالب“ ۔“
اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک ررخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشدت سے محسوس کرتے ہیں۔
غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں ۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انہیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔
غالب کی شاعری کا اثرحواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پرایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اسی ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں ۔ ان کے موضوع میں جووسعتیں اور گہرائیاں ہیں اس کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظرآتا ہے۔ ان گنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔

طنز و مزاح شوخی وظرافت
شوخی و ظرافت غالب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔عملی زندگی میں وہ خوش باش انسان تھے۔ اسی لیے حالی انھیں حیوان ِ ظریف کہتے ہیں۔ انتہائی کٹھن حالات میں بھی وہ زندہ دلی کا دامن نہیں چھوڑتے ۔انہیں زمانے نے نجانے کتنے دکھ دیئے لیکن غالب پھر بھی ہنسے جاتے ہیں۔ان کی ظرافت میں محض شوخی ہی کام نہیں کر رہی ،جس طرح غالب کی شخصیت پہلو دار شخصیت ہے اسی طرح غالب کی ظرافت کی بھی متعدد سطحیںہیں۔ ان کی شاعری میں طنز و طرافت کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔ غالب کے کچھ طنزیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
جانتا ہوں ثواب طاعت وزہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

زندہ دلی اور خوش طبعی
غالب کی شاعر ی میں طنز یہ اشعار کے ساتھ ساتھ شوخی اور خوشدلی کا پہلو بھی بڑا نمایاں ہے۔ چنانچہ ان کے ہاں ایسے اشعار بھی بہت ہیں جنہیں خالص مزاح کا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ اصل میں غالب زندگی کی چھوٹی چھوٹی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ زندگی کی تلخیوں سے آگاہہیں لیکن انہیں زندگی سے والہانہ لگائو بھی ہے۔ غالب ایک فلسفی شاعر تھے۔ انہوں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور پھر اپنے انکشافات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کر دیا۔ غالب کے کچھ مزاح سے پھرپور اشعار ملاحظہ ہوں 
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے  
غالب کا تصور عشق
غالب کے ہاں حسن و عشق کے تصورات اگرچہ وہی ہیں جو صدیوں سے اردو اور فارسی شاعری میں اظہار پاتے رہے ہیں ۔ تاہم غالب کی فطری جدت پسندی نے ان کو صرف انہی موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے ذاتی تجربات و محسوسات کی روشنی میں حسن و عشق کے بارے میں انہوں نے اپنی انفرادیت قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
غالب عشق کی اہمیت کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ اس کے بغیر انجمن ہستی کو بے رونق سمجھتے ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ
رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
غالب کو اس بات کا بڑا قلق ہے کہ وہ عشق کی بزم آرائی تو عمر بھر کرتے رہے لیکن عشق کی راہ میں حقیقی قربانی ایک بھی نہ دے سکے اور وہ غالباً اس لئے کہ ان کے پاس عشق کے حضور میں پیش کرنے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔فرماتے ہیں کہ
ہوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہ
سوائے حسرت تعمیرگھر میں خاک نہیں
غالب عشق کے پرانے افلاطونی تصور کو بھی تسلیم نہیں کرتے ۔ بلکہ اس کے برخلاف ان کا عشق زمینی اوصاف کا حامل ہے۔
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
غالب کے ہاں عشق کی روایتی عاجزی اور مسکینی کے برخلاف ایک جارحانہ انداز پایا جاتا ہے ۔ ایک خاص مقام اور مخصوص شان ہے۔ وہ سوتے ہوئے محبوب کے پاؤں کا بوسہ محض اس لیے نہیں لیتے کہ وہ بدگماں نہ ہو جائے۔ وہ ناراض محبوب کو مناتے بھی نہیں کہ یوں ان کی سبکسری کا پہلو نکل سکتا ہے۔ وہ بزم میں نہیں بلاتا تو یہ راہ میں نہیں ملتے اور جب وہ عجز و نیاز سے رہ پر نہیں آتے تو اس کے دامن کو حریفانہ کھینچنے کی جرات رندانہ بھی کر لیتے ہیں۔
لے تو لوں سوتے میں اُس کے پاؤں کا بوسہ مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہو جائے گا
عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر
دامن کو اس کے آج حریفانہ کھنچئے


ڈاکٹر فرمان فتح پور ی لکھتے ہیں کہ غالب کے اقوال و بیانات کے سلسلے میں خصوصاً محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہ بنوٹ باز شاعر ہیں قدم قدم پر پنتیر ے بدلتے ہیں اور اپنی خوداری اور انانیت کے باوصف مصلحت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
عبادت بریلوی لکھتے ہیں کہ
 غالب ایک بڑی رنگین ایک بڑی ہی پر کار اور پہلو دار شخصیت رکھتے تھے اور اس رنگینی ، پر کاری اور پہلو داری کی جھلک ان کی ایک ایک بات میں نظرآتی ہے۔
بقول رشید احمد صدیقی، مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا ۔ تو میں بے تکلف یہ تین نا م لوں گا غالب ، اردو اور تاج محل۔
بقول ڈاکٹر محمد حسن، دیوان ِ غالب کو ہم نئی نسل کی انجیل قرار دے سکتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر عبادت بریلوی، اردو میں پہلی بھرپور اور رنگارنگ شخصیت غالب کی ہے۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں، غالب کی بڑائی اس میں ہے کہ انہوں نے متنوع موضوعات کو غزل کے سانچے میں ڈھالاہے۔ 
مآخذ : وِکی پیڈیا   

مُرشدِ اِقبال مولانا رومی


علم کی محفل سجی ہے۔ معلم علم کی دولت بانٹ رہاہے اور متعلم سو جان سے نثار لفظوں کے سحر میں کھوئے ہیں۔عقل و دانش کی باتیں ہورہی ہیں ، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں اور فقہ و دین کی بحث چھڑی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی دیوانہ ، قلندرانہ شان سے چلاآتاہے

سحر جاوید
ھیچ چیزے خودبخود نشد
ھیچ آہن خود بخود تیغے نشد
مولوی ھر گز نہ شد مولائے روم
تاغلامِ شمس تبریزے نشد
 علم کی محفل سجی ہے۔ معلم علم کی دولت بانٹ رہاہے اور متعلم سو جان سے نثار لفظوں کے سحر میں کھوئے ہیں۔عقل و دانش کی باتیں ہورہی ہیں ، چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں اور فقہ و دین کی بحث چھڑی ہے۔ ایسے میں کہیں سے کوئی دیوانہ ، قلندرانہ شان سے چلاآتاہے۔ ہوش سے بیگانہ، خرد سے بے خبر، اپنی ہی چال میں مست، اپنے ہی حال میں مست۔ علمی مباحثے میں مداخلت کرتاہے اور کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے معلم سے گویاہوتاہے،”یہ کیاہے؟۔“ معلم کو اس درویش کی مداخلت ناگوار گزرتی ہے اور اک تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہ ڈالتاہے،”یہ وہ ہے جس سے تو واقف نہیں۔“ گویا اس قلندر کو جتادینا چاہتاہے کہ بھیا! جا تیرا اس دانش کدے میں کیاکام؟ عقل والوں کی محفل میں دیوانے کی آمد نامنظور۔ ابھی معلم یہ کہ کے اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہوا ہی چاہتاہے کہ درویش کی انگلی کی اک جنبش سے علم کاخزانہ نذرِ آتش ہوجاتاہے۔ معلم حیرا ں وپریشاں بے ساختہ پکار اُٹھتاہے ۔” یہ کیاہے؟ ۔“اب کے درویش اک ادائے بے نیازی سے جواب دیتاہے ،” یہ وہ ہے جس سے تو واقف نہیں۔“ اتنا کہ کے وہ اپنی راہ لیتاہے اور معلم کی حالت دگرگوں ہونے لگتی ہے۔ کیسا علم، کہاں کی دانش؟ کیا عقل کی باتیں؟ کہاں کی سوچ اور سمجھ؟ سب کچھ جیسے اس درویش کے ساتھ رخصت ہوجاتاہے۔ چین، قرار، سکون کی دولت، سبھی کچھ۔علم و حکمت کی باتیں بے کار لگنے لگتی ہیں، وہ دانائی اور عقل سے کنارہ کش ہوتاہے اور اسی درویش کی تلاش میں صحرا نوردی اختیارکرتاہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ اسی کی جستجو تن من کو بھٹکائے پھرتی ہے۔ دانش کدے سے حیرت کدے کا سفر شروع ہوتاہے گویا خرد تیاگ دی گئی اور جنوں کا لبادہ اُوڑھ لیاگیا۔
وہ معلم کوئی اور نہیں مولانا جلال الدین رومی تھے اور وہ بزرگ اور درویش اُن کے پیر و مرشد شمس تبریز تھے ، جوپیر باباکمال الدین جندی  کے ایک اشارے پر روم کے سفر پر روانہ ہوئے اور صاحبِ قال کو صاحب ِ حال میں بدل دیا۔مولانارومی کاطرزِ زندگی فقیر کے ایک اشارے سے یکسر بدل گیا۔ بیشتر وقت مجاہدے و ریاضت میں گزرنے لگا۔ نماز کا وقت ہوتاتو اورکچھ نہ سوجھتاقبلہ رو کھڑے ہوجاتے، استغراق کا یہ عالم تھا کہ عشا کے بعد دو رکعت نماز کی نیت باندھتے بسا اوقات اسی دوران رات کی تاریکی ،دن کے اجالے میں بدل جاتی اور ان کی محویت میں فرق نہ آتا۔ایک روز ایسے ہی عالم میں خود سے غافل تھے ،نماز کے بعد اس قدر روئے کہ چہرہ تمام کا تمام آنسووٴں سے تر ہوگیا، بیگانگی کے عالم میں اُٹھ کھڑے ہوئے اور رقص کرنے لگے۔ اسی حالت میں دور نکل گئے۔ مرید پکڑ پکڑ کے لاتے ، بٹھاتے ، وہ پھر سے اُٹھ کھڑے ہوتے ، ہوش سے بیگانہ ، دیوانہ وار محو ِ رقص ہوتے۔ رفتہ رفتہ ان کی اس سکری حالت کی اتباع ان کے مرید بھی کرنے لگے ۔ان کی یاد میں کیے جانے والے اس رقص کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اس فرقے کے پیروکار&rdqrdquo;مولویہ یا جلالیہ “ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ہندوستان سے شاہ بو علی قلندر پانی پتی  بھی مولانا کی صحبت میں رہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں فرقہٴ قلندریہ بھی ایک درجہ میں مولانا رومی سے منسوب کیاجاتاہے۔
مولانا رومی  کی وجہ ٴ شہرت ان کی ”مثنوی“ ہے جس کے کل ۲۶۶۶ اشعار ہیں ۔آپ  کے کلام میں تصوف، اخلاقیات، فلسفیانہ خیالات اور قرآنی تفسیر و تشریح جابجا دکھائی دیتی ہے۔ عشق کی وارفتگی کا بیان جس خوبصورتی سے ان کے کلام میں نظر آتاہے کہیں اور کہاں مل پائے گا۔فرماتے ہیں:
چوں قلم اندر نوشتن می شتافت
چوں بعشق آمد قلم برخود شگافت
چوں سخن در وصف ایں حالت رسید
ہم قلم بشکست و ہم کاغذ درید
یعنی عشق کا جذبہ اس قدر طاقتور ہے کہ جب قلم نے لکھنے کا قصد کیا اور جب لفظ ”عشق“ لکھنے لگا تو اس میں شگاف پڑ گیااور جب عشق کے رستے پر چلنے سے پیش آنے والے حالات کا ذکر آیا تو قلم ٹوٹ گیا اور کاغذ پھٹ گیا۔ اُن کے نزدیک اصل عشق ، عشقِ حقیقی ہے ۔ وہ عشق جو پائیدار ہے اُس میں نجات ہے ۔ظاہری حسن سے عشق میں ذلت و رسوائی ہے۔ انھوں نے یہ نصیحت اُس لونڈی کے عشق کی حکایت میں کی ، جو کہ سنار کے ظاہری حسن پر فریفتہ تھی اور جب اُس کا حسن باقی نہ رہا تو عشق کا جذبہ سرد پڑ گیا۔ مولانا اس موقع پر فرماتے ہیں:
عشقہائے کز پئے رنگے بود
عشق نبود عاقبت ننگے بود
مولانا رومی کے نزدیک عشق کی تشریح میں عقل ناکام رہتی ہے اور عشق و عاشقی کی شرح بھی خود عشق کرتا ہے ۔گویا اس مقام پر مولانا عقل کو عشق کے مقابلے میں محدود اور کم تو قرار دیتے ہیں ۔ان کے نزدیک عشق عقل سے برتر ہے:
عقل در شرحش چو خر در گِل بخُفت
شرحِ عشق و عاشقی ہم عشق گفت
عشق کے جذبے سے سرشار یہ فلسفی شاعر 1273ء بمطابق ۶۷۲ھ کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگیالیکن عشق کی یہ شمع بجھی نہیں ۔روحانیت کا یہ سلسلہ تھما نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک اور فلسفی شاعر کے دل کو گرماگیا۔ ہندوستان کا وہ شاعر اور کوئی نہیں شاعر مشرق علامہ محمداقبال ہے۔مولانا رومی اقبال کے روحانی پیر ومرشد تھے ۔ اقبال نے بارہا اس بات کا اظہار کیا کہ وہ انھیں اپنا روحانی مرشد مانتے ہیں اور انھوں نے بارہا اپنے کلام میں ان کاتذکرہ کیاہے ۔انھوں اپنے کلام میں پیرِ رومی ، پیر یزدانی، پیرِ حقیقت سرشت اور پیرِ عجم کے نام سے یاد کیااور ان سے عقیدت کا اظہار کیا جیسے:
رازِ سمنی مرشد رومی کشود
فکر من آستانش در سجود
اقبال کے یہاں اکثر و بیشتر مقامات پر مولانا رومی کے موضوعات پر کلام دکھائی دیتا ہے جیسے عشق و عقل میں عشق کو ترجیح دینا، جبر وقدر کے موضوع میں عمل اور جہد مسلسل کو بہتر جاننایا اخلاقی موضوعات کا بیان ۔ اقبال بڑی حد تک ایسے موضوعات میں مولانا رومی سے متاثر دکھائی دیتے ہیں ۔اقبال نے اپنی نظم پیر و مرید میں مولانا رومی کے اشعار میں اپنی الجھنوں کا حل تلاش کیا ہے ۔ جیسے ایک مقام پر فرماتے ہیں:
اقبال:
زندہ ہے مشرق تری گفتار سے
اُمتیں مرتی ہیں کس آزار سے؟
پیر رومی:
ہر ہلاک ِ اُمت پیشیں کہ بود
زانکہ بر جندل گماں بردند عود
 اقبال رومی کی مثنوی کے عظیم خیالات سے بے حد متاثر تھے ۔ مولانا رومی کی طویل مثنوی میں خیالات کا ایک جہاں آباد ہے جسے اقبال نے حرفاً حرفاً پڑھا اوراپنے دل میں اُتار لیا ۔ اسی لیے ان کے کلام میں مولانا رومی کے کلام کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے ۔ دونوں بزرگوں کے کلام میں مماثلت پائی جاتی ہے ۔ دونوں اعلیٰ درجے کے شاعر ہیں، دونوں اسلامی شاعر ہیں ، دونوں کی شاعری میں حکمت کا رنگ نمایاں ہے، فلسفیانہ عقائد جھلکتے ہیں ۔دونوں خودی کی نفی کے بجائے خودی کی تقویت کے قائل ہیں ۔دونوں کی شاعری میں سوز وگداز کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ قرآنی واقعات کا حوالہ ہے ، اللہ اور نبی کریم سے محبت کا اظہار ہے، پند و نصائح کے موضوعات دکھائی دیتے ہیں اور دونوں کا کلام ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے ۔
دنیامیں دو طرح کے شاعر ہوتے ہیں ۔پہلی قسم کے شعرا وہ ہوتے ہیں جوشاعری کے اسرار ورموز سیکھتے ہیں پھر موضوعات کی تلاش میں بھٹکتے ہیں اور بالآخر لفظوں کی تراش خراش کرکے انھیں اوزان و بحور کے تانے بانے بن کے قرطاس کی زینت بناتے ہیں اور دوسری طرح کے شاعر وہ ہوتے ہیں جنھیں ایسے کسی تردد کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ لفظ ان کے ذہن کی سطح پر اس طرح اُترتے ہیں جیسے بارش کا پانی روانی سے آگرتا ہے ۔ایسے شاعروں کا نام صدیوں تک زمانہ یاد رکھتا ہے ۔ بلاشبہ فارسی زبان میں جلال الدین رومی کا شمار بھی ایسے ہی شعرا میں ہوتا ہے ۔جن کا کلام سالوں کی گرد اُڑنے کے بعد بھی دھندلا نہیں ہوا بلکہ جن کے اشعار کو پڑھ کے دلوں کے آئینے شفاف تر ہوجاتے ہیں اور روحوں کی کثافتیں دور ہو جاتی ہیں ۔
مولانا رومی کا کلام شاعری کے محاسن سے پُرہے ۔ اُن کے کلام میں تغزل بھی ہے ، موسیقیت بھی، غنائیت بھی ہے اور سادگی بھی، سوزو گداز بھی ہے ، عشق کی وارفتگی بھی، داخلیت بھی ہے اور خارجیت بھی، وحدت کا اظہاربھی ہے اور عشقِ نبویﷺ کا پرچار بھی، لفظوں کی پُرکاری بھی ہے، لفظی صناعی بھی، پیکر تراشی کا فن بھی ہے اور حیات و کائنات کے مسائل کا بیان بھی، واقعت نگاری ہو یا قصہ گوئی ، وعظ و نصیحت ہو یا درسِ اخوت و مساوات ، ہر فن میں طاق ہیں ۔اُن کے اشعار معنویت کا گہرا دریا ہیں اور تصوف کی نئی جہتوں کے عکاس۔ اُنھوں نے تصوف کی لگی بندھی راہوں پر چلنے کی بجائے نئے خیالات کو رواج دیا۔زبان کی شستگی اور بیان کی سادگی نے انھیں اپنے دور کے شعرا میں بھی ممتاز رکھااور بعد میں آنے والے شعرا کو بھی متاثر کیا۔
صحبتِ صالح تُرا صالح کُند
صحبتِ طالح تُرا طالح کند
دور شُو از احتلاطِ یارِ بد
یارِ بد بتر بُوَد از مارِ بد
مار بد تنہا ھ،یں برجان زند
یارِ بد برجان و بر ایمان زند
اخذ و استفادہ:
 ۱#دائرة المعارف:http://ur.wikipedia.org/wiki/
 ۲#مفتاح العلوم ، مثنوی مولانا روم،دفتر اوّل ، مترجم: مولوی میرزا محمد نذیر ، لاہور ، قریشی بک ایجنسی، http://www.scribd.com/
۳#رومی، مولانا،مثنوی مولانا رومی(والیم اوّل) http://www.iqbalcyberlibrary.net/
۴#کلیدِ مثنوی،جلد اوّل، دفتر اوّل، از مولانامحمد اشرف علی تھانوی، ادارہ ٴ تالیفات ِ اشرفیہ،ملتان
http://www.faqeer.org/books.html
۵# کلیاتِ اقبال از علامہ اقبال،http://desistore-com.stores.yahoo.net/kulyatiqbal.html

اُردو ادب کا اِرتقاع


 اردو زبان پر مشتمل ادب اردو ادب کہلاتا ہے جو مضامین، شاعری وغیرہ پر مشتمل ہے۔ اس کو اردو ادبیات بھی کہا جاتا ہے۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ نظمی ادب، لیکن غزل اور نظم سے ہی اردو ادب کی شان بڑھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔ اردو ادب پاکستان میں مقبول ہے، بھارت میں مشہور ہے اور  افغانستان میں بھی سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔
اردو ادب کا آغاز 14 ویں صدی میں شمالی بھارت میں ہوا۔ اس دور میں جو بھی سلاطین تھیں ان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اس وجہ سے اردو ادب پر فارسی ادب کی چھاپ نظر آئے گی۔ اردو زبان کے اصطلاحات کے ذخیرہ کو، سنسکرت سے ماخوذ پراکرت الفاظ، عربی، فارسی زبان کے الفاظ کا مشترکہ ملاپ سمجھا جاتا ہے۔ صرف زبان کا اشتراک ہی نہیں بلکہ ادبی، ثقافتی اشتراک بھی ہے۔
اردو ادب کے آغازی دور میں حضرت امیر خسرو نام لیا جاتا ہے، یہ اردو ادب میں ہی نہیں بلکہ ہندی ادب میں بھی کافی اہم ادیب مانے جاتے ہیں۔ اردو زبان اور اردو ادب کے بانیوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ امیر خسرو فارسی، عربی، ہندی زبان میں ماہر تھے۔ اردو زبان کا آغاز تھا، تو انہوں نے ان زبانوں کو مربی شکل میں اردو میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ محمد قلی قطب شاہ جو کہ دکن سے تعلق رکھتے تھے، اردو، فارسی، عربی اور تیلگو زبانوں پر کافی اچھا عبور تھا۔ یہ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے، ان کی کلیات “ کلیاتِ قلی قطب شاہ“ ہے۔ تیلگو زبان میں بھی شاعری کہی۔ انہیں کی کاوشوں کے نتیجہ میں اردو زبان، ادبی زبان کی حیثیت سے جانی جانے لگی۔ ان کا انتقال 1611 میں ہوا
سید شمس اللہ قادری کو دکنیات پر تحقیق کرنے کا سہرا جاتا ہے۔ان کے تحقیقات سلاطین ع معبر 1929 ، اردوئے قدیم 1930, تاریخ ملیبار، مورخینِ ہند، تحفتہ المجاہدین عمادیہ، نظام التواریخ، تاریخ زبان اردو-اردوئے قدیم، تاریخ زبان اردو ال مسمےٰ بہ اردوئے قدیم، تاریخ زبان اردو یعنی اردوئے قدیم، تاریخVol III, اثرالکلام، تاریخ، شجرہ آصفیہ، اہل یار، پراچینا ملابار
اردو ادب میں نثری ادب سے زیادہ نظمی ادب موجود ہے۔ جب بات نثری ادب کی آتی ہے تو صنف داستان کی تخلیقات زیادہ ہیں۔ ان داستانوں میں دیومالائی کہانیاں، قصے، کئی حالات کو بیان کرنے والی داستانیں وغیرہ۔ یہ صنف، قصہ گوئیوں پر، دلچسپ کہانی قصوں پر مبنی ہے۔ حقائق اور دلائل سے پرے داستانیں ہی اس صنف کے موضوعات تھے۔ فارسی مثنوی، پجنابی قصے، سندھی واقعاتی بیت وغیرہ داستانوی موضوعات بن گئے۔ سب سے قدیم اردو داستان حمزہ نامہ یا داستان امیر حمزہ ہے۔ میر تقی خیال کی بوستانِ خیال (1760) بھی اپنا خاسہ مقام رکھتی ہے۔ اردو ادب میں جتنی بھی داستانیں ملتی ہیں وہ 19ویں صدی میں لکھے گئی ہیں۔ میر امن کی باغ و بہار، نہال چند لاہوری کی مذہبِ عشق، حیدر بخش حیدر کی آرائشِ محفل، اور خلیل علی خان اشک کی گلزارِ چین وغیرہ اہم داستانیں ہیں۔ [20] اور دیگر مشہور داستانیں حسین عطا خان تحسین کی نوطرز مرسیٰ، مہر چند کھتری کی نو آئینِ ہندی (قصہ مالک محمود گیتی افروز)، شاہ حسین حقیقت کی جذبئہ عشق، محمد حسین آزاد کی طلسم ہوش ربا ہیں۔
اردو ادب کی ایک نئی صنف مانی جاتی ہے۔ اس کی شکل ہوبہو ڈرامے جیسی ہے۔ اس کی پہلی نمائش پاکستا کے محقق و مصنف مجتبی حیدر زیدی دسمبر 2008 میں کیا۔ اس کا نام مزاروں کے پھول رکھا گیا تھا۔ (i.e. Graveyard Flowers).
 
Copyright © 2015 Urdu Award
Powered by Z.A.Anees